سرینگر//وزیر برائے تعلیم ، سماجی بہبود ، صحت و طبی تعلیم محترمہ سکینہ ایتو نے آج سول سوسائٹی کے اراکین کے ساتھ ساتھ نجی اسکول والدین ایسوسی ایشنز ، غیر سرکاری تنظیموں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے نمائندوں کے ساتھ ایک اجلاس کی صدارت کی تا کہ اسکول تعلیم کے شعبے سے متعلق اہم مسائل پر بات چیت کی جا سکے اور جموں و کشمیر میں تعلیمی نظام کے معیار ، شفافیت اور مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات تلاش کئے جا سکیں ۔ اجلاس میں متعدد مسائل پر تفصیلی مذاکرات ہوئے جن میں درسی کتابوں کی دستیابی اور قیمتوں کا تعین ، والدین کو کتابیں اور یونیفارم خریدنے میں انتخاب کی آزادی ، سرکاری اور نجی سکولوں کے درمیان تعلیمی ہم آہنگی ، نئے تعلیمی سیشن کے آغاز کیلئے بروقت تیاری ، اسکول کی منظوری اور نو اوبجکشن سرٹیفکیٹس ( این او سی ) سے متعلق مسائل ، تصدیقی طریقہ کار اور اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے اٹھائے گئے دیگر خدشات شامل تھے ۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیر نے جموں و کشمیر کے دونوں ڈویژنوں کے نمائندوں کی جانب سے پیش کئے گئے مثبت مشوروں کی تعریف کی اور طلباء ، والدین اور تعلیمی اداروں کے مسائل کو دور کرنے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مسلسل مشاورت کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتی اور نجی دونوں تعلیمی اداروں کا بنیادی مقصد معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانا اور طلباء کو علم کی فراہمی ، ہمہ گیر ترقی اور مستقبل کی کامیابی کیلئے ساز گار ماحول فراہم کرنا ہونا چاہئیے ۔ وزیر موصوفہ نے کہا ’’ مقصد یہ نہیں ہونا چاہئیے کہ سرکاری اسکولوں کا موازنہ نجی اداروں سے کیا جائے ، بلکہ ہر بچے کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کیلئے اجتماعی طور پر کام کیا جائے ۔ دونوں شعبوں نے تعلیمی نظام میں اہم خدمات انجام دی ہیں اور ان کی متعلقہ خوبیوں کو تسلیم کیا جانا چاہئیے اور انہیں مزید مضبوط کیا جانا چاہئیے ۔ ‘‘ سکینہ ایتو نے کہا کہ حکومت تعلیم کو مضبوط بنانے کیلئے پرعزم ہے جبکہ نجی اسکولوں کے تعلیمی مواقع کو بڑھانے میں اہم کردار کو بھی تسلیم کرتی ہے ۔ انہوں نے طلباء کے مفادات کو سب سے اہم رکھنے کیلئے زیادہ ہم آہنگی ، باہمی سمجھ بوجھ اور ادارہ جاتی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا ’’ حکومت نے نظام کو ہموار بنانے اور طویل عرصے سے چلے آ رہے انتظامی اور تعلیمی مسائل کو حل کرنے کیلئے ہم آہنگی کے ساتھ بھر پور کوششیں کی ہیں ۔ ‘‘ انہوں نے شعبہ جاتی افسران اور متعلقہ تعلیمی اداروں کی قیادت کے کردار کو تسلیم کیا جنہوں نے زیر التوا معاملات کو حل کرنے اور تعلیمی شعبے کے کام کاج میں زیادہ کارکردگی لانے میں مدد کی ۔ نئی تعلیمی نشست کیلئے پیشگی منصوبہ بندی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ نصابی کتب ، نصاب اور دیگر تعلیمی ضروریات سے متعلق تیاریاں پہلے سے کر لینی چاہئیں ، خاص طور پر اس پیشکش کے پیش نظر کہ نئی تعلیمی نشست نومبر میں شروع ہو گی ۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ اجلاس کے دوران اٹھائے گئے مسائل کا جائیزہ لیں اور اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے معاملات کے بروقت حل کیلئے مناسب اقدامات کریں ۔ وزیر موصوفہ نے اسکول ایسوسی ایشنز ، والدین کی ایسوسی ایشنز ، منتخب این جی اوز اور تعلیم ڈیپارٹمنٹ کے افسران پر مشتمل ایک نمائندہ کمیٹی کے قیام کا بھی مطالبہ کیا تا کہ نجی اسکولوں کے کام کاج کو متاثر کرنے والے مسائل کا جائیزہ لیا جا سکے اور شفافیت ، جوابدہی اور ہم آہنگی بہتر بنانے کیلئے عملی اقدامات تجویز کئے جا سکیں ۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے اپیل کی کہ وہ تعلیم کے محکمے کے ساتھ قریبی ہم آہنگی میں کام کریں اور جموں و کشمیر بھر میں زیادہ ذمہ دار ، منصفانہ اور طلبہ مرکز تعلیمی ماحول بنانے میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ اس موقع پر کمشنر سیکرٹری سکول ایجوکیشن ، چئیر مین جے کے بی او ایس ای ، ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن جموں /کشمیر ، سیکرٹری جے کے بی او ایس ای ، سکول ایجوکیشن محکمے کے دیگر سینئر افسران ، سول سوسائٹی کے اراکین اور پرائیویٹ اسکول والدین ایسوسی ایشنز کے نمائندے بھی موجود تھے ۔





