سری نگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر کو ’’ایڈوانسنگ اِنٹرنل میڈیسن: ایویڈنس سے کلینکل پریکٹس میں بہترین کارکردگی تک‘‘ کے موضوع پر کانفرنس منعقد کرنے پر مُبارک باد دِی ۔اُنہوں نے اَپنے پیغام میں جامع اور مریض پر مبنی طبی نگہداشت کی فراہمی میں اِنٹرنل میڈیسن کے کلیدی کردار پر زور دیا۔اُنہوںنے کہا کہ ڈاکٹروں کو اکثر بظاہرسادہ علامات سے پیچیدہ بنیادی صحت کی حالتوں کی نشاندہی کرنے کے مشکل کام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ انٹرنل میڈیسن کی خوبی یہ ہے کہ اِنسانی جسم کو ایک باہم مربوط نظام کے طور پر دیکھنے اور طبی علم، تجربے اور محتاط مشاہدے کے ذریعے مریض کی مکمل طبی کہانی کو سمجھنے میں مضمر ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ مشاہدہ، استدلال، اِنسانی فہم اور ہمت ہمیشہ ایک ڈاکٹر کی نمایاں خصوصیات رہتی ہیں۔ اُنہوں نے اِس بات کو اُجاگر کیا کہ ڈاکٹر اکثرکنبوں کے لئے طبی رابطے کے پہلے نقطہ کے طور پر کام کرتے ہیں اور بہت سے معاملات میں، اعتماد، ہمدردی اور سائنسی شواہد پر مبنی نسلوں کے درمیان دیرپا تعلقات استوار کرتے ہیں۔اُنہوں نے اَپنے پیغام میں گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر کی طبی تعلیم اور صحت نگہداشت میں نمایاں خدمات کی سراہنا کی اور کہا کہ اِدارے سے تربیت یافتہ کئی نسلوں کے ڈاکٹر جموںوکشمیر اور ملک بھر میں خدمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔اُنہوں نے صحت شعبے میں اُبھرتے ہوئے چیلنجوں پر بھی روشنی ڈالی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’اگرچہ متعدی بیماریاں تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں لیکن طرزِ زِندگی سے متعلق امراض جیسے ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا، فیٹی لیور اور امراضِ قلب وبائی صورت اِختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ہمیں اِس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ تشخیص، علاج اور طبی ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت دیہی اور دُور دراز علاقوں کے ڈاکٹروں اور مریضوں تک اتنی ہی مؤثر طریقے سے پہنچے جتنی شہری مراکز میں پہنچتی ہے۔‘‘اُنہوںنے طبی کمیونٹی سے مقامی تحقیق کو مضبوط بنانے اور ہندوستان کی متنوع آبادی سے متعلق شواہد تیار کرنے کی اپیل بھی کی۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک کا آبادیاتی تنوع، ڈاکٹروں کی مہارت اور عزم کے ساتھ مل کر سائنسی دریافت اور اختراع کے وسیع مواقع فراہم کرتاہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ،’’طبی سائنس تاریخی ترقی کر رہی ہے اور نئی اَدویات اور تشخیصی آلات نے علاج کے نئے امکانات پیدا کر دئیے ہیں۔ آج سب سے بڑی ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ اختراعات صرف بڑے شہروں کے ڈاکٹروںتک محدود نہ رہیںبلکہ دیہاتوں کے ڈاکٹروں تک بھی پہنچیں۔ ہمیںیہ یقینی بنانا ہوگا کہ سہولیات اور دستیاب وسائل تک رسائی میں شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان ذرہ برابر بھی فرق نہ رہے۔ یہ اِس کانفرنس کا اوّلین مقصد ہونا چاہیے۔‘‘اُنہوں نے پانچ سالہ روڈ میپ کا خاکہ بھی پیش کیا اور طبی کمیونٹی کے لئے چھ اہم عہد تجویز کئے جن میں ڈیجیٹل ہیلتھ پلیٹ فارمز اور ٹیلی میڈیسن کے ذریعے جدید طبی علم تک رسائی میں توسیع، بچاؤ پر مبنی طبی نگہداشت اور بیماریوں کی بروقت تشخیص کو ترجیح دینا، ٹیکنالوجی اورآرٹیفیشل اِنٹلی جنس کو معاون آلات کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کلینیکل فیصلہ سازی کو برقرار رکھنا، طبی تحقیق کو برقرار رکھنا،ڈاکٹروں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا اورپیشہ ورانہ برن آئوٹ کو کم کرنا شامل ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر نے نوجوان ڈاکٹروں پر بھی زور دیا کہ وہ متجسس رہیں، اِختراع کو اپنائیں اور تجربہ کار رہنماؤں سے سیکھیں۔ اُنہوں نے سینئرڈاکٹروں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنی طبی حکمت کا اِشتراک کریں اور صحت شعبے کے نوجوان پیشہ ور اَفراد کی رہنمائی کریں۔اُنہوں نے کہا،’’ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور جگر کی بیماری کا جلد پتہ لگانا کم مہنگا ہے اور علاج کے اخراجات کوکم کرنے میں مدد کرسکتاہے۔ میں تمام ڈاکٹروںاور انٹرنسٹ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ کمیونٹی سطح پر بچاؤ کی مہمات کی قیادت کریںکیوں کہ ڈاکٹر کی آواز معاشرے پر غیر معمولی اثر ڈال سکتی ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ طرزِ زِندگی سے متعلق بیماریوں سے بچاؤ کے حوالے سے جب آپ مشورہ دیں گے تو لوگ اسے سنجیدگی سے لیں گے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ہمیں ڈاکٹروں کی محنت، خدمت اور لگن کی قدر کرنی چاہیے۔ مریضوں، ہسپتالوں اور اِداروں کی نگہداشت کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ڈاکٹروں کا بھی خیال رکھا جائے۔ انہیں بہتر کام کی جگہیں اور کام کے حالات فراہم کرنا ایک ترجیح ہونی چاہیے۔‘‘






