نئی دہلی// ایجنسی// وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے مختلف ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں کو تیزی سے آگے بڑھانے کی حکمت عملی ہندوستان کی معیشت کے لیے اہم فوائد پیدا کر سکتی ہے۔ ایک تازہ اقتصادی تجزیے کے مطابق ان معاہدوں کے نتیجے میں 2035 تک ہندوستان کی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً 140 ارب ڈالر کا اضافی فائدہ ہونے کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق برطانیہ، متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا، عمان اور یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن کے ساتھ تجارتی معاہدوں کے علاوہ یورپی یونین اور نیوزی لینڈ کے ساتھ معاہدوں پر عمل درآمد ہندوستان کی معیشت کو نئی رفتار دے سکتا ہے۔ ان معاہدوں سے 2035 تک ملکی جی ڈی پی متوقع بنیادی سطح سے 1.7 فیصد زیادہ ہو سکتی ہے۔تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ اگر ہندوستان امریکہ، خلیجی تعاون کونسل، اسرائیل اور یوریشین اقتصادی یونین کے ساتھ بھی تجارتی معاہدے مکمل کر لیتا ہے تو اقتصادی فائدہ بڑھ کر تقریباً 170 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جو جی ڈی پی میں 2.1 فیصد اضافے کے برابر ہوگا۔رپورٹ کے مطابق امریکہ کی بڑھتی ہوئی تجارتی پابندیاں اور محصولات ہندوستان کے لیے چیلنج ضرور ہیں، تاہم نئی دہلی کی جانب سے برآمدی منڈیوں کو متنوع بنانے کی حکمت عملی ان کے منفی اثرات محدود کر سکتی ہے۔ ہندوستانی مصنوعات کو نئی عالمی منڈیوں تک رسائی ملنے سے برآمدات، غیر ملکی سرمایہ کاری اور صنعتی پیداوار میں اضافے کی توقع ہے۔تجزیے میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ تمام مجوزہ تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد کی صورت میں 2035 تک ہندوستان کی برآمدات بنیادی تخمینے کے مقابلے میں تقریباً 10 فیصد زیادہ ہو سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ درآمدی لاگت میں کمی اور عالمی سپلائی چین میں ہندوستانی صنعتوں کی شمولیت بھی بڑھ سکتی ہے۔رپورٹ میں حکومت کی جانب سے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، کارپوریٹ ٹیکس میں اصلاحات، مینوفیکچرنگ کے فروغ اور صنعتی لاگت کم کرنے کے اقدامات کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق ان فوائد کے مکمل حصول کے لیے توانائی کی قابل اعتماد فراہمی، ہنرمند افرادی قوت اور زرعی شعبے سے صنعتوں کی جانب روزگار کی منتقلی ضروری ہوگی۔تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کی صنعتی پالیسی اور آزاد تجارت کو فروغ دینے کی حکمت عملی اگر مؤثر انداز میں آگے بڑھتی رہی تو ملک آنے والی دہائی میں عالمی اقتصادی ترقی کے اہم مراکز میں شامل ہو سکتا ہے۔ تاہم 140 ارب ڈالر کا تخمینہ ایک اقتصادی پیش گوئی ہے، جس کا حصول تجارتی معاہدوں کے نفاذ اور مسلسل اصلاحات پر منحصر ہوگا۔

