یہ شکایت عام ہے کہ آج کے نوجوان کتابیں کم پڑھتے ہیں۔ موبائل فون، مختصر ویڈیوز اور سوشل میڈیا نے بلاشبہ پڑھنے کی عادت کو متاثر کیا ہے، لیکن شاید مسئلہ صرف نوجوانوں کا نہیں۔
کتاب پڑھنے کے لیے وقت، ماحول اور دلچسپی تینوں ضروری ہیں۔ اگر گھر اور تعلیمی اداروں میں مطالعے کی عادت کو فروغ نہ دیا جائے تو نوجوانوں سے یہ توقع رکھنا مشکل ہے کہ وہ خود بخود کتابوں کی طرف متوجہ ہوں گے۔
کتاب کا مطلب صرف نصابی کتاب نہیں۔ تاریخ، سفر، سوانح، افسانہ، سائنس اور ادب ہر شخص کو کچھ نہ کچھ سکھا سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ ڈیجیٹل دور میں بھی کتاب کی اہمیت ختم نہیں ہوئی؛ صرف کتاب تک پہنچنے کا طریقہ بدل رہا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کو پڑھنے پر مجبور کرنے کے بجائے انہیں اچھی کتابوں سے متعارف کرایا جائے۔ شاید ایک اچھی کتاب کسی نوجوان کے لیے اسکرین پر گزرتے سیکڑوں گھنٹوں سے زیادہ قیمتی ثابت ہو۔





