ترال: اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (آئی یو ایس ٹی) اونتی پورہ نے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم)، محکمہ صحت و تحقیق، وزارتِ صحت و خاندانی بہبود، حکومتِ ہند کے اشتراک سے ”علمِ مدافعت اور متعدی امراض کا باہمی انضمام“ کے موضوع پر ایک ہفتہ طویل ہینڈز آن ورکشاپ کا آغاز کیا۔
ورکشاپ کی افتتاحی تقریب یونیورسٹی کی رومی لائبریری کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوئی، جس میں متعلقہ شعبوں سے وابستہ ماہرین، محققین، فیکلٹی ممبران، ریسرچ اسکالرز اور شرکاء نے شرکت کی۔ مقررین نے امیونولوجی، متعدی امراض اور جدید طبی تحقیق کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
ورکشاپ کا بنیادی مقصد شرکاء کو اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس سے متعلق جدید معلومات فراہم کرنا، مدافعتی نظام اور متعدی بیماریوں کے درمیان باہمی تعلق کو سمجھنے میں مدد دینا اور انہیں جدید تحقیقی طریقۂ کار سے عملی طور پر روشناس کرانا ہے۔
ماہرین کے مطابق اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس دنیا بھر میں صحتِ عامہ کے لیے ایک اہم چیلنج بنتا جا رہا ہے، جس کے پیش نظر اس شعبے میں جدید تحقیق، تشخیص اور مؤثر علاج کے طریقۂ کار سے متعلق تربیت کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ورکشاپ کے ذریعے شرکاء کو اس مسئلے کے مختلف پہلوؤں کو سائنسی اور تحقیقی نقطۂ نظر سے سمجھنے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
ایک ہفتے پر محیط اس تربیتی پروگرام کے دوران امیونولوجی اور متعدی بیماریوں سے متعلق مختلف اہم موضوعات پر ماہرین کی جانب سے خصوصی لیکچرز، عملی سیشنز اور ہینڈز آن ٹریننگ فراہم کی جائے گی۔ شرکاء کو جدید لیبارٹری تکنیکوں، تحقیقی طریقۂ کار اور بیماریوں کے مدافعتی پہلوؤں سے متعلق عملی تجربہ حاصل کرنے کا موقع بھی ملے گا۔
ورکشاپ کا مقصد نہ صرف شرکاء کے علمی اور تحقیقی دائرۂ کار کو وسعت دینا ہے بلکہ انہیں جدید طبی تحقیق کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا بھی ہے، تاکہ وہ امیونولوجی، متعدی امراض اور اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس کے شعبوں میں مؤثر تحقیق اور علمی سرگرمیوں میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
منتظمین کے مطابق اس نوعیت کے تربیتی پروگرام طلبہ، محققین اور فیکلٹی ممبران کو ماہرین کے ساتھ براہِ راست تبادلۂ خیال کا موقع فراہم کرتے ہیں اور جدید طبی و حیاتیاتی تحقیق کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔




