سرینگر//ایجنسی //کشمیر کے فلک بوس پہاڑوں میں واقع پوتر امرناتھ گپھا تک پہنچنے کا سفر شردھالوؤں کے لیے آنے والے وقت میں مزید آسان ہونے کی امید ہے۔ حکام نے اس مذہبی مقام تک جانے والے دونوں راستوں – پہلگام اور سونہ مرگ – پر روپ وے (کیبل کار) بنانے کے لیے تجاویز طلب کی ہیں۔ ہر سال لاکھوں ہندو شردھالو پہلگام کے نونہ ون بیس کیمپ اور سونہ مرگ کے بالتل بیس کیمپس سے گپھا تک پیدل سفر کرتے ہیں۔حکام نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ ہمالیہ کے پہاڑوں میں مجموعی طور پر 64 کلومیٹر سے زیادہ طویل سات روپ وے منصوبوں پر کام شروع کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ مرکزی حکومت نے ان منصوبوں کی تفصیلی رپورٹ (ڈی پی آر) تیار کرنے کے لیے مشیروں سے تجاویز طلب کی ہیں۔روڈ ٹرانسپورٹ اینڈ ہائی ویز کی مرکزی وزارت کے تحت کام کرنے والے ادارے نیشنل ہائی ویز لاجسٹکس مینجمنٹ لمیٹڈ” (این ایچ ایل ایم ایل) کو ملک بھر میں ’پروت مالا پریوجنا‘ (قومی روپ وے ترقیاتی پروگرام) کے تحت روپ وے منصوبے تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ جموں و کشمیر میں اس منصوبے کے تحت امرناتھ گپھا کے آس پاس اونچے اور دشوار گزار پہاڑی راستوں میں مجموعی طور پر 48 کلومیٹر طویل تین کیبل کار منصوبے شامل ہیں۔ یہ روپ وے پہلگام اور سونہ مرگ کی جانب سے گپھا تک پہنچنے والے دونوں راستوں پر بنائے جانے کی تجویز ہے۔حکام نے جنوبی کشمیر کے پہلگام میں امرناتھ کے بیس کیمپ سے چندن واڑی تک 14 کلومیٹر طویل کیبل کار بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کے بعد چندن واڑی سے پوتر گپھا تک 23 کلومیٹر طویل روپ وے کی تجویز ہے۔ اسی طرح وسطی کشمیر کے سونہ مرگ کی جانب سے بالتل کے راستے پر بھی روپ وے بنانے کا منصوبہ ہے، جس کی مجوزہ لمبائی 11.6 کلومیٹر ہوگی۔بھگوان شیو سے منسوب امرناتھ گپھا ہندوؤں کے مقدس ترین مذہبی مقامات میں شمار ہوتی ہے۔ ملک بھر سے شردھالو ہر سال یہاں شیو لنگم کا درشن کرنے آتے ہیں۔ یہ گپھا سطح سمندر سے 3,888 میٹر کی بلندی پر ہمالیہ کے پہاڑوں کے اندر واقع ہے اور سال کے بیشتر حصے میں برف سے ڈھکی رہتی ہے۔پہلگام قصبے سے گپھا تک کا فاصلہ 48 کلومیٹر ہے، لیکن چٹانوں اور تنگ راستوں سے گزرنے کی وجہ سے یہ سفر پیدل، ٹٹو یا خچر پر سوار ہوکر ہی طے کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب، سرینگر-لیہہ شاہراہ کے قریب سونہ مرگ سے بالتل والے راستے کے ذریعے گپھا تک پہنچنے کا فاصلہ تقریباً 14 کلومیٹر ہے، جسے پیدل طے کرنے میں پورا دن لگ سکتا ہے۔روپ وے کی تعمیر سے شردھالوؤں کے لیے گپھا تک پہنچنا آسان ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر بزرگوں کو اس سے بڑی راحت ملنے کی امید ہے، کیونکہ عمر رسیدہ افراد کو مختلف طبی مسائل کے باعث دشوار گزار پہاڑی راستوں پر سفر کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔





