نئی دہلی//ایجنسی //وزیر مملکت برائے امورِ خارجہ کیرتی وردھن سنگھ نے آرکٹک اور موسمیاتی تحقیق پر بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا کے درمیان سائنسی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے مشترکہ مہمات، سائنسی ڈیٹا اور تحقیقی سہولیات کے منظم تبادلے، اور آرکٹک اور ہمالیہ کے خطوں کے درمیان گہرے اشتراکِ عمل کی تجاویز پیش کیں۔8 اکتوبر کو’آرکٹک سرکل اسمبلی 2026‘میں آرکٹک اور موسمیاتی تبدیلی مبصرین کے نقطہ نظر کے عنوان سے منعقدہ پینل سے خطاب کرتے ہوئے کیرتی وردھن سنگھ نے کہا، بھارت کے لیے آرکٹک کے ساتھ وابستگی کا آغاز ایک سادہ سی حقیقت کو تسلیم کرنے سے ہوتا ہے جغرافیہ موسمیاتی نظاموں کی حدود کا تعین نہیں کرتا۔ آرکٹک کا خطہ اگرچہ بھارت سے دور واقع ہے، لیکن وہاں رونما ہونے والی تبدیلیاں قطبی خطے سے کہیں دور تک اثرات مرتب کرتی ہیں۔”وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اپنے ابتدائی کلمات میں کیرتی وردھنسنگھ نے کہا کہ 2022 میں اپنائی گئی بھارت کی ’ آرکٹک پالیسی‘ میں سائنس، تحقیق اور بین الاقوامی تعاون کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا، ہندوستانی مانسون کا نظام سمندروں، فضا، زمین، برف اور گلیشیئرز کے پیچیدہ باہمی تعامل سے تشکیل پاتا ہے۔ سائنسدان اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آرکٹک میں ہونے والی تبدیلیاں کس طرح یوریشیا میں فضائی گردش پر اثر انداز ہو سکتی ہیں اور مانسون کو متاثر کر سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، ہمارے پاس ابھی تمام سوالات کے جوابات موجود نہیں ہیں، لیکن بھارت کے لیے ان باہمی روابط کو سمجھنا انتہائی اہم ہے۔ مانسون کا ہماری زراعت، آبی وسائل، توانائی اور کروڑوں لوگوں کے روزگار پر براہِ راست اثر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلسل مشاہدہ، طویل مدتی تحقیق اور قابلِ اعتماد سائنسی ڈیٹا انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔




